Aslam bhotani

بلوچستان میں نیٹ کی سہولت نہیں آن لائن کلاسز نہیں ہو رہے،اسلم بھوتانی
لسبیلہ: لسبیلہ گوادر سے منتخب آزاد رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم کا بڑا مسئلہ ہے صوبے میں آن لائن کلاسز نہیں ہورہے ہیں کیونکہ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ہے اب ایسے میں ہمارے مستقبل کے معماروں کا سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے اب بلوچستان کے طلباء و طالبات کے پاس دو راستے ہیں۔
ایک یہ وہ اپنے گھر بیٹھ کر اپنا تعلیمی سال ضائع کریں یا دوسرا یہ کہ اگر کسی کے پاس مالی طاقت ہے تو وہ کسی بڑے شہر میں جاکر کرائے کا مکان لے اور اپنا تعلیم جاری رکھے لیکن بلوچستان کے اکثریت طلباء و طالبات کی مالی طاقت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ بڑے شہروں میں جاکر کرائے پر مکان لے کر وہاں بیٹھ کر اپنا تعلیم جاری رکھ سکیں کیونکہ بلوچستان میں پہلے ہی پسماندگی زیادہ ہے۔
اور خاص اس وقت کورونا کی وجہ سے ایک مصیبت آئی ہے اس لیے میری وفاقی حکومت اور خاص کر محکمہ تعلیم اور محکمہ کمیونیکیشن سے گزارش ہے بلوچستان میں تعلیم کے حوالے اقدامات کریں بصورت دیگر طلباء و طالبات کا تعلیمی سال ضائع ہوجائے گا.انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی میں لاتعداد منصوبے رکھے جاتے ہیں مگر ان پر کام شروع نہیں ہوتا ابھی بھی پچھلے پی ایس ڈی پی میں بہت سارے اسکیمات شامل کیے گئے تھے۔
مگر کام شروع نہ ہوسکے. رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے لیے مشرف کے دور میں 25ارب روپے رکھے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ دس سال میں خرچ ہونگے مگر 15سال ہوگئے وفاق کی جانب سے ابھی تک 11ارب جاری ہوئے ہیں اس طریقے سے گوادر ترقی مشکل کرسکے تو اس پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس بار صرف 800ملین رکھے گئے ہیں گوادر کی ترقی کے لیے جو جی ڈی اے کے ذریعے خرچ ہونے ہیں۔
اس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ جھل جھاؤ بیلہ سڑک پچھلے سال کی پی ایس ڈی پی میں شامل تھا اس کے علاوہ ہوشاب آواران سڑک بھی کی اسکیم بھی پچھلی پی ایس ڈی پی میں تھا مگر زمین پر ابھی تک کچھ نظر نہیں آرہا ہے جبکہ زیارت ٹاؤن کی ترقی کے منصوبے کو پچھلے چار سالوں سے دیکھ رہا ہوں مگر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے اگر وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کا کوئی منصوبہ شامل کیا جاتا ہے۔
تو اس پر عمل درآمدبھی یقینی بنائی جائے کیونکہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لاتعداد منصوبے شامل ہوتے ہیں مگر ان منصوبوں سے بلوچستان کے عوام کو اس وقت تک فائدہ نہیں مل سکتا جب تک یہ تکمیل کے مراحل طے نہیں کرینگے۔

No comments

Powered by Blogger.