Karachi malir news today

ملیر کے مختلف علاقوں میں  منشیات فروش گینگز کے آڈے قائم جبکہ پولیس اور دیگر ادارے کارکردگی دکھانے کے چکر میں مصنوعی چھاپے مارتے رہیں

 صاحبدادگوٹھ ،آنسوگوٹھ ,غریب آباد اورطراف کی گلیوں میں ایک بارپھرسے مسلح منشیات فروش گینگ کارندوں کی نقل وحرکت سامنے آنے لگی ذرائع کے مطابق ،بدنام زمانہ ملکہ منشیات فاطمہ عرف فاطونے اپنی بہنوں آصفہ ،آمنہ اوررخسانہ کے ساتھ ملکر دوبارہ سے منشیات کاآڈہ آبادکرلیا

  ملکہ منشیات فروش فاطمہ عرف فاطوکی بہنوں کے علاوہ اس کے بیٹے عبدالرزاق ،آصف ،رمضان ،نادراوردامادعابدبھی منظرعام پرآگئے،ملکہ منشیات فروش فاطمہ عرف فاطی کے گھر کے باہر منشیات کے عادی افراد رش کی شکل میں منشیات خریدنے میں مصروف دیکھائی دیتے ہیں

جبکہ ریڑھی گوٹھ کے مختلف پاڑے بالخصوص موسانی, قاسمانی میں تو سرعام منشیات ہر خاص و عام کو تھوک کی بنیاد پر فروخت کی جارہی ہے, جبکہ کوئی گوٹھ کے فٹبال گراؤنڈ کے سامنے اور اطراف کی گلیوں میں سارا دن منشیات کھلے عام بیچی جارہی ہے ,اس کے علاوہ قائد آباد لانڈھی ریلوے اسٹیشن کے ساتھ واقع نیو قائد آباد مارکیٹ کے عقب میں ہیروئن بیچنے اور پینے والے افراد کا تانتا بندھا ہوا ہے

 اس ساری صورتحال میں مقامی پولیس اور دیگر ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں, میڈیا کو دکھاوے کے لئے نمائشی کاروائیاں کرکے صرف ہیروئین پینے والو کو پکڑ کر کارکردگی دکھائی جاتی ہے

 جبکہ ضلع ملیر  کے ایس ایس پی اور ایس پی ملیر جیسے بہترین افسران کی موجودگی میں کھلے عام منشیات فروشی کا مکروہ دھندہ ایک سوالیہ نشان بن رہا ہے

مذکورہ علاقے منشیات فروشوں کا گڑھ بن چکے ہے جہاں ہر قسم کا نشہ باآسانی دستیاب ہے جو نوجوان نسل کو تباہ کئے جارہا ہے ,جبکہ منشیات فروشی کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکنان منشیات فروشوں کے ساتھ مقامی پولیس کی بھی انتقامی کارروائیوں کا شکار ہوتے ہیں اور اکثر حالات سے دل برداشتہ ہوکر خاموش بیٹھ جاتے ہیں یا اپنی جان و مال کی حفاظت کے پیش نظر نقل مکانی کرلیتے ہیں

عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی پولیس, رینجرز  اور اینٹی نارکوٹکس فورس جیسے منظم ادارے ایک صفحہ پر آکر ضلع ملیر کے مختلف علاقوں میں قائم نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرکے جرائم اور موت کی وادی میں دھکیلنے والے منشیات کے ان اڈوں اور ان کے مالکان و سرپرستوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرکے انکا خاتمہ کریں

No comments

Powered by Blogger.