Lahore high court shahbaz shareif

امدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس

لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعلی  شہباز شریف کی گرفتاری سے بچنے کے لیے عبوری ضمانت پر اج دوبارا سماعت ہوگی ۔

دورکنی بنچ سوا بارہ بجے دوپہر میاں شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کرے گا

دو رکنی بنچ کے روبرو میاں شہباز شریف کروانا وائرس میں مبتلا ہونے کی بنا پر پیش نہیں ہوں گے

میاں شہباز شریف کی طرف سے مچلکوں پر دستخط کروانےکے لیے عدالتی نمائندہ مقرر کرنے کی تحریری درخواست دائر کی گئی ہے ۔

کروانا وائرس اور عدالتی ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے پولیس نفری تعینات کر دی گئی ہے ۔

لیگی راہنماؤںاور کارکنوں کے احاطہ ہائی کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے

 گزشتہ روز نیب نے اپنے تحریری جواب میں میاں شہباز شریف پر 7  ارب 17 کروڑ  کے ناجائز اثاثے بنانے کا الزام عائد کیا ہے

گزشتہ سماعت پر عدالت نے میاں شہباز کی ممکنہ نیب گرفتاری روکتے ہوئے  انکو 5 لاکھ کے مچلکے بطور زر ضمانت داخل کروانے کی ہدایت کی تھی

  مس جسٹس عالیہ نیلم اور  مسٹر جسٹس طارق عباسی پر مشتمل احتساب اپیلٹ بنچ درخواست ضمانت پر سماعت کرے گا

درخواستگزار کی طرف سے قانون دان اعظم نذیر تارڑ اور  امجد پرویز
ایڈووکیٹ پیش ہوں گے

1972ء میں بطور تاجر کاروبار کا آغاز کیا اور ایگری کلچر، شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اہم کردار ادا کیا۔ درخواست گزار

سماج کی بھلائی کیلئے 1988ء میں سیاست میں قدم رکھا۔درخواستگزار

نیب نے بد نیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔درخواستگزار

موجودہ حکومت کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کی ہے۔درخواست گزار

انکوائری میں نیب کی جانب سے لگائے گئے الزامات عمومی نوعیت کے ہیں۔درخواستگزار

2018ء میں اسی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اس دوران بھی نیب کیساتھ بھر پور تعاون کیا ۔درخواستگزار

2018ء میں گرفتاری کے دوران نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بھی ثبوت سامنے نہیں رکھا۔درخواستگزار

نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کر سکتا جس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو۔درخواستگزار

تواتر سے تمام اثاثے ڈکلیئر کرتا آ رہا ہوں، منی لانڈرنگ کے الزامات بھی بالکل بے بنیاد ہیں، درخواست گزار

نیب انکوائری کے دوران اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا۔درخواستگزار

نیب انکوائری دستاویزی نوعیت کی ہے۔درخواستگزار

 ایسے میں تمام دستاویزات پہلے سے ہی نیب کے پاس موجود ہیں۔درخواستگزار

نیب کے پاس زیر التواء انکوائری میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے، عبوری ضمانت منظور کی جائے، استدعا

No comments

Powered by Blogger.