Lasbela news today

بیلا پریس کلب جب سے وجود میں آیا انہوں نے اپنی صحافتی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں کچھ بھی نہ کریں کم از کم مسائل کی تو نشاندہی کریں کہتے ھیں جہاں صحافت دم توڑ جائے قلم کی سیاہی حق سچ نہ لکھے ان علاقوں میں غربت پسماندگی بیروزگاری اور تعلیم صحت جیسے مسائل حل نہیں ہوتے معیاری ترقیاتی کام نہ ہونے جیسے مسائل پنجے گاڑ دیتے ھیں مجھے اچھی طرح یاد ہے کلیم انبالوی جنگ اخبار کے ضلعی نمائیندے تھے جو معروف فٹبال اور ایس ایچ او شاہد کلیم کے والد تھے اوتھل میں انکی رہائش تھی کلیم انبالوی نے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے خلاف ایک سخت ثبوت کے ساتھ آرٹیکل لکھا جس پر بلوچستان گورنمنٹ نے تحقیقات کیلئے وفد اوتھل بھیجے 3 دن تحقیقات جاری رہی کلیم انبالوی بھی  پیش ہوتے رہے کیس ثابت ہوا ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ کردیا گیا اتنا کچھ ہونے پر بھی ڈپٹی کمشنر نے کلیم انبالوی سے معزرت کی صحافت اگر نیک نیتی مخلصی سچائی سے کیجائی تو بہت اثرات رکھتی ھے موجودہ دور اور پچھلے دور میں فرق تو ہے لیکن پھر بھی بیلا کے صحافیوں کا کسی حوالے سے کردار ہونا چاہیے یہاں تو بلکل خاموشی ہے جو علاقے کیلئے بہت نقصان دہ ہے ۔۔۔۔۔۔یونس بھائی نے لکھا ہے اللہ کرے یہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں جو ان کیلئے بھی نیک نامی اور علاقے کیلئے فاہدہ مند ہوگا ۔۔۔۔۔۔

No comments

Powered by Blogger.